آف دی ریکارڈ کاشف عباسی کے ساتھ – 1 اکتوبر 2019

آف دی ریکارڈ کاشف عباسی کے ساتھ – 1 اکتوبر 2019

پروگرام آف دی ریکارڈ میں آج بات چند اہم ٹاپکس پر بات ہوگی۔ سب سے اہم ٹاپک یہ ہے کہ آج پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنماؤں کے درمیان ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں دونوں پارٹیوں کے رہنماؤں نے اسلام آباد مارچ کرنے والے آپشن پر بات چیت کی۔ یاد رہے اسلام آباد مارچ فضل الرحمٰن کررہے ہیں اور انہوں نے دیگر پارٹیوں کو حکومت کے خلاف مارچ کی دعوت دی ہے۔

حکومت گرانے کے خواب دیکھنے والے فضل الرحمن کیا اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گے؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے آج کے ملاقات میں فضل الرحمن کے مارچ میں شامل ہونے کا عندیہ دیا گیا۔ لیکن دونوں پارٹی کچھ باتوں پر فضل الرحمن سے اختلاف رکھتے ہیں۔

جرگہ سلیم سافی کے ساتھ پروگرام دیکھیں

وہ باتیں جن پر دونوں پارٹیوں کے رہنما فضل الرحمن سے اختلاف کرتے ہیں وہ یہ ہیں۔ کہ حکومت کے خلاف مارچ میں مذہب کارڈ استعمال نہیں ہوگا۔ کیونکہ مولانا فضل الرحمن ناموس رسالت کا سہارا لے کر مارچ کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری بات تاریخ پر اختلاف ہے کیونکہ اکتوبر میں ربیع الاول ہے اس لیے جلسے جلوس ہوں گے اور ملکی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔

آج کی ملاقات میں جو تیسری بات تھی وہ آئین کے اندر رہ کر حکومت کے خلاف مارچ، کیونکہ غیر ائینی طریقے سے احتجاج سے ملک کا نقصان ہوگا۔ اور غیر سیاسی لوگ بھی حکومت پر آسکتے ہیں جو مزید پریشانی کا سبب ہے۔

پاور پلے وِد ارشد شریف پروگرام دیکھیں

اسلام آباد مارچ سے کیا ہوگا

لیکن دونوں پارٹی ایک اور ایجنڈے پر بھی پریشان ہیں اور انہوں نے یہی بات فضل الرحمن سے بھی کہی کہ اسلام آباد جائیں گے تو کیا ہوگا؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا جواب ابھی تک دونوں پارٹیوں کو نہیں ملا۔

یادرہے پی ٹی آئی جو اس وقت حکومت میں ہے، اسی پارٹی نے ن لیگ کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا جس سے انہیں ناکامی ہوئی۔ کیا اسلام آباد مارچ سے ن لیگ اور پیپلز پارٹی اور جے یو آئی حکومت گرا سکیں گے؟

آف دی ریکارڈ کاشف عباسی کے ساتھ مکمل ٹاک شو دیکھیں

 

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*